لاہور (ٹوڈے نیوز) مینار پاکستان کیس میں خاتون ٹک ٹاکر کوہ ر ا س ا ں کرنے کے کیس میں آئے روز اہم انکشافات سامنے آ رہے ہیں اور حالیہ پیش رفت کے

بعد لوگ بھی دو حصوں میں تقسیم ہوتے نظر آ رہے ہیں۔آج گریٹر اقبال پارک دست درازی کیس میں اہم ہیش رفت سامنے آئی تھی جب بتایا گیا کہ ٹک ٹاکر

عائشہ اکرم کے گرد بھی گھیرا تنگ ہونے لگا ہے۔پولیس کے مطابق عائشہ اکرم نے مرضی سے قابل اعتراض ویڈیوز بنوائیں۔ قابل اعتراض ویڈیو بنانے پر

عائشہ کے خلاف کارروائی کا فیصلہ کیا گیا ہے۔پیکا ایکٹ کے تحت کارروائی کرنے کی لیگل ڈیپارٹمنٹ سے رائے طلب کر لی گئی ہے۔ پولیس کے مطابق مرضی سے ویڈیوز بنوانا اور سوشل میڈیا پر وائرل کرنا جرم ہے۔ٹک ٹاکر عائشہ اکرم اور ریمبو کی نازیبا ویڈیوز وائرل ہوئی تھیں۔ذرائع کے مطابق چونکہ اپنی مرضی سے اخلاق سوز ویڈیوز بنوانا اور سوشل میڈیا پر وائرل کرنا جرم ہے لہذا پیکا ایکٹ کے تحت ریمبو اور عائشہ کو 7 سال قید کی سزا ہو سکتی ہے۔یاد رہے کہ اس سے پہلے بھی مینار پاکستان پر دست درازی کیس میں عائشہ اکرم اور ریمبو کی مبینہ آڈیو ٹیپ سامنے آئی تھی۔ آڈیو ٹیپ میں عائشہ اکرم اور ریمبو کے مابین مکالمہ ہوا اور پوچھا گیا کہ مجرم چھ ہیں یا سات ۔جس پر عائشہ اکرم نے ریمبو کو بتایا کہ مھرم چھ ہیں جنہیں شناخت کیا ہے۔ عائشہ اکرم اور ریمبو کے مابین مکالمے میں منصوبہ بندی کی گئی کہ فی مجرم کتنے پیسے لیے جائیں ، زیادہ تر مجرم غریب ہیں۔ لیک ہونے والی مبینہ آڈیو ٹیپ میں عائشہ اکرم نے کہا کہ مشکل سے ان لوگوں نے پانچ پانچ لاکھ کرنے ہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ کیس میں گرفتار ملزمان سے عائشہ اکرم اور ریمبو نے رہائی کے بدلے رقم لینے کی منصوبہ بندی کی تھی۔پولیس نے اس آڈیو ٹیپ کو کیس کے ریکارڈ کا حصہ بنا دیا۔ اس حوالے سے ڈی آئی جی انویسٹی گیس شارق جمال نے کہا کہ ہم اس کال کا جائزہ لے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ریمبو کا فون قبضے میں لے لیا گیا ہے۔ فون کال کی ریکارڈنگ کو کیس کا حصہ بنا رہے ہیں۔ ریمبو چار روز کے جسمانی ریمانڈ پر ہے، کیس میں کافی تفصیلات سامنے آ رہی ہیں۔

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں