اجرا کے ذریعے ڈالرز جمع کرنے کا طریقہ کار مہنگا انتخاب ثابت ہوگا۔ جبادائیگی میں توازن کا بحران سنگین ہوتو شرح مبادلہ قابو سے باہر ہوجاتی ہے اورمہنگائی میں تیزی سے اضافہ کرسکتی ہے۔تاہم، اقتصادی ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر وزیر خزانہ شوکت ترین

جاری مذاکرات میں معاہدہ کرنے میں کامیابہوجاتے ہیں تب بھی حکومت کو منی بجٹ پیش کرنا ہوگا تاکہ ذاتی انکم ٹیکس بالخصوص زیادہ آمدنی والوں پر اور دوسرا جی ایس ٹی استثنا ختم کرنا ہوگا۔مسئلہ صرف یہیں ختم نہیں ہوگا کیوں کہ حکومت سے کہا جائے گا

کہ وہ بجلی ٹیرف میں بھی 1.40 روپے فی یونٹ اضافہ نومبر 2021 کے اختتام تک کرے۔اس کے علاوہ حکومت کو گیس ٹیرف بھی بڑھانا ہوگا۔ حالاں کہ موسم سرما میں گیس کا شدید بحران متوقع ہے۔ اخراجات کے حوالے سے آئی ایم ایف فنڈز کے استعمال کو قابو

کرنے کی تجویز بھی دے سکتا ہےجو کہ سالانہ ترقیاتی منصوبے کے تحت قومی اقتصادی کونسل اور پارلیمنٹ سے منظور ہوئے ہیں۔

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں