اسلام آباد (ٹوڈے نیوز) گذشتہ شب سینئر صحافی جاوید چوہدری کے پروگرام میں معاون خصوصی فردوس عاشق اعوان اور پیپلز پارٹی کے

 

رہنما عبدالقادر مندوخیل کے مابین تلخ کلامی ہوئی اور بات ہاتھا پائی تک پہنچ گئی۔پاکستان پیپلز پارٹی اور رکن قومی اسمبلی قادر مندوخیل نے

 

کہا ہے کہ وہ پاکستان تحریک انصاف کی فردوس عاشق اعوان کو معاف کرنے کو تیار ہیں۔انہوں نے کہا کہ فردوس عاشق اعوان معافی مانگے

 

تو معاف کرنے کو تیار ہوں۔میں نے فردوس عاشق اعوان کو گالی نہیں دی اور نہ دینے کا سوچ سکتا ہوں۔غلطی تسلیم کرنے کی بجائے میرے خلاف عدالت جانا ڈھٹائی کے سوا کچھ نہیں۔میں بھی قانون راستہ اپنانے کا حق رکھتا ہوں۔ان کا کہنا تھا کہ فردوس عاشق اعوان کے خلاف عدالت جانے کا فیصلہ قیادت کی مشاورت سے کروں گا۔پارٹی کی خواتین فردوس عاشق اعوان کے اقدام پرحصہ میں ہیں۔قادر مندوخیل نے کہا کہ فردس عاشق اعوان اس سے قبل بھی لوگوں سے ٹاک شوز میں لڑتی رہی ہیں۔میں نے کرپشن یاد دلائی تو ٹاک شو کے بعد فردوس عاشق اعوان نے میرا گلا پکڑا۔ٹاک شو ختم ہونے کے بعد فردوس عاشق اعوان میرے پیچھے آئیں کہا کہ ادھر آؤ کہاں جا رہے ہو۔ نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں بات کرتے ہوئے پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما عبد القادر مندوخیل نے کہا کہ میں نے فردوس عاشق اعوان کے بارے میں سُن رکھا تھا لیکن مجھے اتنا اندازہ نہیں تھا کہ وہ اس حد تک پہنچ سکتی ہیں۔کل مطالبات کے حوالے سے مزدوروں کی ہڑتال تھی ، میں لاہور میں وہیں موجود تھا جہاں سے میں پروگرام میں شرکت کے لیے گیا۔ انہوں نے کہا کہ پروگرام میں آدھے گھنٹے تک فردوس عاشق اعوان نے کسی کو بات نہیں کرنے دی ، اور وہ خود ہی حکومت کے حوالے سے گفتگو کرتی رہیں، جب مسلم لیگ ن کی رہنما عظمیٰ بخاری نے بولنا چاہا تو انہیں بھی نہیں بولنے دیا ، جب میری باری آئی تو پھر فردوس عاشق اعوان نے بولنا شروع کر دیا، میں نے ان سے کہا کہ فردوس باجی آپ نے آدھا گھنٹہ بات کر لی ہے ، مجھے بھی بولنے دیں، میں بھی اپنی پارٹی کے بارے میں بولنا چاہتا ہوں جس پر انہوں نے کہا کہ آپ کیا بولیں گے ، آپ کی پارٹی تو سر سے لے کر پاؤں تک کرپشن میں ڈوبی ہوئی ہے جس پر میں نے ان سے کہا کہ جس حکومت کو آپ کرپٹ کہہ رہی ہیں آپ خود بھی اس حکومت کی وزیر رہ چکی ہیں ۔

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں